ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل میں کے ڈی پی سہ ماہی میٹنگ : فاریسٹ افسران اور عوامی نمائندوں کے درمیان اتی کرم کو لے کر گھماسان

بھٹکل میں کے ڈی پی سہ ماہی میٹنگ : فاریسٹ افسران اور عوامی نمائندوں کے درمیان اتی کرم کو لے کر گھماسان

Sat, 24 Dec 2016 20:41:28    S.O. News Service

بھٹکل:24/ڈسمبر  (ایس او نیوز)پنچایت حدود کی فاریسٹ حق کمیٹی ، محکمہ سماجی و فلاحی بہبود اور محکمہ فوریسٹ کے افسران کی موجودگی میں فوریسٹ اتی کرم زمینوں کو سکرم کرنے کے سلسلے میں جی پی ایس سروے کا کام ہوچکاہے ، اس کے باوجود محکمہ فوریسٹ  کا عملہ 25سال سے زائد عرصہ سے جن درختوں کی پرورش کی گئی تھی اس کو کاٹ رہے ہیں اور غریبوں کے گھروں توڑ رہے ہیں۔ یہ باتیں سنیچر کو تعلقہ پنچایت ہال میں رکن اسمبلی منکال وئیدیا کی صدارت میں منعقدہ سہ ماہی کے ڈی پی میٹنگ میں کی گئیں۔ میٹنگ میں عوامی نمائندوں نے فوریسٹ افسران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فصلوں کو برباد کرنے، درختوں کو کاٹنے اور مکانوں کو منہدم کرنے پراپنے سختغصے کا اظہار کیا۔

میٹنگ کے دوران متعلقہ معاملہ کو پیش کرتے ہوئے ضلع پنچایت کے ممبر البرٹ ڈیکوستھا نے کہاکہ فوریسٹ زمین کے سروے کے دوران نچلی سطح پر فوریسٹ عملہ سے رشوت کا لین دین ہورہاہے، غریبوں کو جی پی ایس سروے کے لئے  رشوت کے طورپر ایک دو ہزارروپیہ وصول کیا جاتا ہے۔ جی پی ایس سروے ہونے کے بعد بھی اتی کرم داروں کی طرف سے  بیج بو کر 25سالوں سے جن  درختوں کی دیکھ ریکھ کررہے ہیں فوریسٹ عملہ غیر انسانی رویہ اختیار کرتے ہوئے کاٹ کر پھینک رہے ہیں، امیر ورئیس لوگ فوریسٹ علاقوں پر ہی عمارات کی تعمیر کریں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں، یہ ایک ظالمانہ رویہ ہے اور ناقابل معافی جرم ہے۔ انہوں نے اس طرح کی کاروائیوں پر محکمہ فوریسٹ کے آفسران پرسخت برہمی ظاہر کی۔ اس کی حمایت کرتے ہوئے ضلع پنچایت ممبر سندھو بھاسکر نائک ، ناگما ماستی گونڈ ا نے بھی اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے  کہاکہ نکال باہرکرنے کے  سلسلے  میں فوریسٹ افسران کو فون کریں تو کوئی بھی فون پر حاضری نہیں دیتا، آخر ہم عوام کو کیا جواب دیں۔ آر ایف اؤ کرشنا ، آر ایف اؤ رویندر نے عوامی نمائندوں کے سوالات پروضاحت کرتے ہوئے کہاکہ فاریسٹ قانون  میں جی پی ایس سروے کی بات ہی نہیں ہے، فاریسٹ افسران جی پی ایس کی اشیاء ، اطلاعات  وجانکاری سے واقف ہوتے ہیں اسی لئے دوسرے محکمہ جات کے ساتھ جی پی ایس سروے کے لئےجارہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ جی پی ایس سروے کسی زمین پر حق ہونے کو ظاہر نہیں کرتا۔ افسران کے جواب سے طیش میں آئے رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے افسران کی طرف راست رخ کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیر صاحب فاریسٹ کے اعلیٰ افسران کے روبرو ہدایات دے رہے تھے تو تم کیا کررہے تھے ؟ جی پی ایس سروے کے لئے فاریسٹ افسران کو حصہ دار بنا کر ضلع ڈی سی کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے پر کیا آپ عمل کررہے ہیں؟ اب قانون، ضوابط کے نام پر بہانے نہ بنائیں ، ہم کسی بھی نئے اتی کرم کا تعاون نہیں کررہے ہیں، گزشتہ کئی سالوں سے نباتا ت کی پرورش کرتے ہوئے عمارات تعمیر کرتے ہوئے رہائش اختیار کئے ہیں انہیں کوئی تکلیف نہ دیں، ایسے مکینوں کو بجلی ، پینےکا پانی  اور سڑک کی سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، آپ اس کا تعاون کرنے کے بجائے تکلیف دیں گے روڑے اٹکائیں گے تو ہم برداشت نہیں کر یں گے۔ اس پر افسران نے واضح کیا کہ پرانے اتی کرم دارو ں کو کسی حال میں کوئی تکلیف نہیں دیں گے ، لیکن جی پی ایس سروے کے نام پر نئی تعمیرات کریں گے تو کارروائی کرنا ہماری مجبوری ہے۔

رکن اسمبلی نے کہاکہ بھٹکل تعلقہ میں  30جنوری سے پہلے پینے کے پانی کے منصوبے کی تکمیل کرنا ہے۔ اس دوران کام ادھورا رہتے کسی بھی کانٹراکٹر کو رقم ادا کریں گے تو ضلع پنچایت انجنئیر اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔۔ میری رکن اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے پہلے تمام گھروں کو بجلی ، گیس کنکشن دینا طئے کیا ہوں، ٹرافک کی سہولیات کو مزید استحکام دینے کے سلسلے میں مزید 10نئی بسیں بھٹکل پہنچنے کی بات کہی۔ ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، تعلقہ پنچایت صدر ایشور نائک، نائب صدر رادھا اشوک وئیدیا، تحصیلدار وی این باڈکر ، تعلقہ پنچایت افسرسی ٹی نائک موجود تھے۔


Share: